سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعدپاکستان ‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے فوجی سربراہان کا ریاض میں ہنگامی اجلاس ہواہےجس میں مکہ معاہدے کے عہد و پیمان کو موثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کا عزم کا اعادہ کیا گیا،اجلاس کے شرکاء نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا،اجلاس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کاکہناہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ملک پر حملے کی صورت میں ردعمل کا فیصلہ حملے کا شکار ہونے والے ملک کی درخواست اور اس کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔ادھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے حق دفاع کی توثیق کردی ‘سکیورٹی کونسل نے حوثیوں سےحملے فوری بندکرنے کا مطالبہ بھی کیا‘ترک پارلیمان کے اسپیکر کاکہنا ہے کہ دفاعی اتحاد مستقبل میں وسیع تر معاہدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس میں ایران سمیت دیگر مسلمان ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں‘ قبل ازیں نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا مکہ دفاعی اتحاد کے تحت اجلاس ہواجس میں نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ اسحاق ڈار‘ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے معاہدے کے تحت جنرل سیکرٹریٹ‘ کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام میں ہونے والی پیش رفت اور ان کے کام کے آغاز کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان کا ہنگامی اجلاس
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل







