وزیر اعظم شہباز شریف کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے الفاظ کو اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نمایاں کر دیا۔
فلسطینی مشن کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں فلسطین کا خصوصی ذکر کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے فلسطینی خواتین، بچوں اور بزرگوں پر ہونے والے مظالم کو عالمی ضمیر کے سامنے اجاگر کیا۔
وزیر اعظم نے عالمی برادری کے سامنے غزہ کے بچوں کے حقِ زندگی، بہتر مستقبل اور خوابوں کی تکمیل کا سوال اٹھایا۔
شہباز شریف نے کہا تھا کہ گزشتہ سال ہند رجب نامی فلسطینی بچی نے دل دہلا دینے والی داستان بیان کی تھی، ہند رجب نامی بچی کو اسرائیلی فوجیوں نے بے دردی سے گولی مار دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سال ایک اور سانحہ ہمارے دلوں اور پوری دنیا کے دل پر بوجھ بن گیا ہے، 8 سال کی وفا عقیلہ نے اس بے مقصد جارحیت میں جان گنوا دی، وفا عقیلہ کا اسکول کا پہلا دن اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ زندگی، مستقبل اور خواب دیکھنےکا حق نہیں رکھتا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کا ایک اقتباس اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر شیئر کردیا۔ وزیراعظم کہا تھا کہ ٹرمپ کی بروقت مداخلت نے دو جوہری طاقتوں کو مکمل جنگ سے بچا لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں 2025 کے پاک بھارت فوجی تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، جسکے جواب میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم کے ساتھ بھارتی حملے کا جواب دیا اور دشمن کو ایسا سبق سکھایا جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔








