3 سال سے جاری جنگ کے بعد غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی کے مناظر سامنے آگئے، نئی سیٹلائٹ تصاویر میں کئی علاقے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل دکھائی دے رہے ہیں۔
عرب میڈیا نے گوگل میپس پر حال ہی میں جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے غزہ کے جنگ سے پہلے اور موجودہ حالات کا موازنہ کیا ہے، جن میں رفح سے شمالی غزہ تک مختلف علاقوں میں ہونے والی تباہی واضح ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کی اکتوبر 2025ء کی جائزہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد میں جنگ بندی کے بعد 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، مجموعی طور پر غزہ کی تقریباً 82 فیصد عمارتیں، یعنی لگ بھگ 2 لاکھ عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
رفح کے علاقے تل السلطان میں سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق گنجان آباد رہائشی علاقہ تقریباً مکمل طور پر مٹ چکا ہے اور وہاں اب گھروں کے بجائے زیادہ تر ریت دکھائی دیتی ہے۔
رفح کے ساحلی علاقے المواسی میں، جسے جنگ کے آغاز میں اسرائیل نے ’انسانی ہمدردی کا علاقہ‘ قرار دیا تھا، تازہ تصاویر میں بڑی تعداد میں خیمے اور بے گھر خاندان دکھائی دیتے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے غزہ میں تباہی عیاں
خان یونس میں 51 ہزار 885 عمارتیں متاثر ہوئیں، جو اقوامِ متحدہ کے جائزے کے مطابق غزہ کے تمام گورنریٹس میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
خان یونس کی انڈونیشین استقلال مسجد بھی جنگ کے دوران تباہ ہو گئی۔
سیٹلائٹ تصاویر سے غزہ میں تباہی عیاں
غزہ سٹی میں 41 ہزار 663 عمارتوں سمیت مجموعی طور پر 51 ہزار 530 عمارتیں متاثر ہوئیں۔
غزہ کی بندرگاہ کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ ماہی گیروں کی بیشتر کشتیاں تباہ ہو گئیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے غزہ میں تباہی عیاں
شمالی غزہ میں جولائی 2025ء تک 94 فیصد زرعی زمین متاثر ہونے کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔
جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں بھی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق کئی مکمل رہائشی بلاکس ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے غزہ میں تباہی عیاں
7 اکتوبر 2023ء سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران 74 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کے باعث اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔



