ترک صدر کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ویٹو پاور ختم کرنے کا مطالبہ

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوامٍ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مستقل ارکان کا نظام اور ویٹو کا اختیار ختم کرنے کی تجویز دے دی۔

بلوم برگ میں شائع ہوئے اپنے مضمون میں رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے دور کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ حالیہ عالمی بحرانوں، توانائی کے مسائل، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور علاقائی تنازعات نے موجودہ نظام کی خامیوں کو نمایاں کیا ہے۔

اردوان نے کہا ہے کہ بامعنی اصلاحات کا آغاز ویٹو کے خصوصی اختیار کے خاتمے سے ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان شامل کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید ممالک کو خصوصی اختیارات دینے کے مترادف ہو گا۔

ترک صدر نے تجویز دی کہ سلامتی کونسل میں کوئی مستقل رکن نہ ہو، بلکہ تمام ارکان کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی مقررہ مدت کے لیے گردش کی بنیاد پر منتخب کرے، دوبارہ کونسل کا حصہ بننے کے خواہش مند ممالک کو جنرل اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کی حمایت دوبارہ حاصل کرنا ہو گی۔

اردوان نے جنرل اسمبلی کے اختیارات مضبوط کرنے اور سلامتی کونسل کو اس کے سامنے مزید جواب دہ بنانے پر بھی زور دیا۔

دوسری جانب روس نے اردوان کی ویٹو ختم کرنے کی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے اور موجودہ ویٹو نظام برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں