امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے سلسلے میں قطری ثالث آج تہران واپس پہنچ گئے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق معاملے سے باخبر عہدیدار کا کہنا ہے کہ قطری ثالثین کا نیا دورہ بھی امریکا ایران معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ثالثی کے لیے ہونے والی بات چیت امریکا کے ساتھ رابطے اور مشاورت سے کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایرانی سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو ارسال کردہ خط کے حوالے سے رپورٹ شائع کی تھی۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر نے ایرانی سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو دونوں ملکوں کے حکام کی جلد ملاقات کی تجویز دی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران نے ابھی تک جے ڈی وینس کے خط کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
دوسری طرف ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی 7 شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔
محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی شرائط ثالثوں کو بارہا اور واضح طور پر بتائی جا چکی ہیں، دباؤ اور لالچ کی پالیسی ایران پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایران کی تمام 7 شرائط تسلیم کی جائیں۔
اس سے قبل اپنے ایک بیان میں باقر قالیباف نے کہا تھا کہ ایرانی قوم امریکا سے مرعوب نہیں ہو گی، ایرانی عوام امریکی فوجی دھمکیوں یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، جب تک امریکا اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اور دھونس و دھمکیاں بند نہیں کرتا، وہ ناقابلِ اعتبار رہے گا۔




