ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیوکلیئر بم سے متعلق سوال کا 3 الفاظ میں جواب دے دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو سختی سے تردید کی کہ ایران جوہری بم کا حصول چاہتا ہے، انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو بین الاقوامی معائنے کے لیے پیش کرنے پر تیار ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 7 ماہ سے جاری جنگ کا ذمے دار امریکا کو ٹھہرایا۔
شہباز پزشکیان ملاقات، مکہ معاہدہ پر گفتگو، ایرانی قیادت سے خطے کی صورتحال پر تفصیلی اور اچھی بات چیت ہوئی، وزیراعظم
امریکی میڈیا نے خصوصی انٹرویو کے دوران ایرانی صدر سے پوچھا کہ کیا آپ نیوکلیئر بم چاہتے ہیں یا نہیں؟
اس پر ایرانی صدر نے 3 الفاظ میں جواب دیا کہ ہرگز ہرگز نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہید اور قابلِ احترام سپریم لیڈر نے کئی بار اعلان کیا تھا کہ شرعی حکم کی رو سے یہ عمل غیر مذہبی اور غیر قانونی ہے۔
ایرانی صدر نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم نے آپ کے صدر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، وہ معاہدہ طے پا گیا تھا اور اسی کی بنیاد پر ہم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں اور اب بھی یہی خواہش رکھتے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ہم پر حملہ کیا، ہمارے قابلِ احترام سپریم لیڈر، ہمارے سائنسدانوں، ہمارے فوجی کمانڈرز اور حکومتی شخصیات کو شہید کیا۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو صحت کا کوئی خاص مسئلہ درپیش نہیں، وہ طبی طور پر مکمل صحت مند ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں مسعود پزشکیان نے بتایا کہ میری مجتبیٰ خامنہ ای سے 2 مرتبہ ملاقات ہوئی، جن میں سے ایک 7 گھنٹے سے زائد جاری رہی۔
ایرانی صدر کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے اور ٹانگوں پر آنے والے زخم ٹھیک ہو چکے ہیں۔
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند اور خیریت سے ہیں: ایرانی صدر
سفارتی معاملات میں مجتبیٰ خامنہ ای کے مشوروں سے متعلق سوال پر ایرانی صدر نے بتایا کہ مختلف اداروں، سیکیورٹی فورسز، پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں کے 6 ارکان پر مشتمل ٹیم فیصلوں اور مشاورت کے معاملات پر بات کرتی ہے۔
ایرانی صدر نے بتایا کہ فیصلے باہمی رابطے سے کیے جاتے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی صدر نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے جنگ کا انتخاب نہیں کیا، جنگ ہم پر مسلط کی گئی، ہم جنگ نہیں، امن کے خواہاں ہیں۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہمیں اپنا دفاع کرنا ہو گا، اپنے دفاع کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔







