فرانس میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور ان کے دوران توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش سے نقصانات کا تخمینہ ایک ارب یورو سے تجاوز کر گیا ہے۔آج پانچ نومبر کو پانچ بڑی ٹریڈ یونین کی کال پر ملک گیر ہڑتال کی جارہی ہے۔
فرانس میں گزشتہ روز دو ہفتوں کے بعد اہم تعلیمی اداروں کے کھلتے ہی طلبہ نے احتجاج شروع کردیا،ملک کے مختلف شہروں میں پیر کے دن انٹرمیڈیٹ کالجوں کی ناکہ بندی کی گئی اور اکثر تعلیمی اداروں کے داخلی راستوں کو آگ لگا دی گئی تاکہ طلبہ وہاں نہ جا سکیں۔فرانس میں جمعرات 5 نومبر کو سرکاری اور نجی شعبوں میں ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔ اس کے باعث ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور سرکاری خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔گزشتہ کئی روز سے جاری احتجاج سے فرانسیسی معیشت دباؤ کا شکار ہے، جی ڈی پی میں کمی ہو رہی ہے اور ملک کی معیشت کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔
فرانس میں5نومبر جمعرات کو سرکاری اور نجی شعبوں میں ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔ہڑتال کے باعث ٹرانسپورٹ، تعلیم سمیت سرکاری خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، احتجاج کے باعث ملکی معیشت اس وقت دباؤ کا شکارہے، جی ڈی پی میں کمی ہو رہی ہے اور معیشت کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے تازہ رپورٹ کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی میں ملکی مجموعی پیداوار میں 0.1 فیصد کمی ہوئی ہے۔
فرانس: مظاہروں میں لوٹ مار اور کاروباری بندش، ایک ارب یورو سے زائد کا نقصان




