شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن دماغ میں خون بہنے، کومے میں جانے اور موت سے متعلق غیر مصدقہ افواہوں کے بعد منظرِ عام پر آ گئے۔
شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں کم جونگ اُن کو ملبوسات اور جوتوں کی نمائش کا معائنہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
کم جونگ اُن نے حال ہی میں قومی ملبوسات اور جوتوں کی نمائش کا دورہ کیا، اس موقع پر ان کی اہلیہ ری سول جو اور بیٹی کم جو اے بھی ان کے ہمراہ تھیں، تصاویر میں انہیں نمائش میں رکھی مصنوعات کا جائزہ لیتے اور حکام سے بات چیت کرتے دیکھا گیا۔
کم جونگ اُن کی صحت سے متعلق افواہیں سوشل میڈیا پر پھیلی تھیں، مختلف پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں دماغ میں شدید خون بہنے کے بعد کومہ میں جانے پر ہنگامی علاج کے لیے بیجنگ منتقل کیا گیا ہے۔
بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے ان کی ممکنہ جانشینی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے تھے، جن میں ان کی بیٹی کم جو اے اور بااثر بہن کم یو جونگ کے نام لیے گئے، تاہم کم جونگ اُن کی صحت یا ممکنہ اقتدار کی منتقلی سے متعلق ان دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سمیت مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر یہ افواہیں بڑے پیمانے پر پھیلیں، بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیانگ یانگ میں طبی سہولتیں محدود ہونے کے باعث کم جونگ اُن کو بیجنگ کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔
کم جونگ اُن کی صحت سے متعلق سوالات پہلی مرتبہ نہیں اٹھے، 2020ء میں بھی عوامی سطح پر کئی روز تک نظر نہ آنے کے بعد ان کی موت یا کومہ میں ہونے کی افواہیں پھیلی تھیں، تاہم وہ بعد ازاں دوبارہ منظرِ عام پر آ گئے تھے۔
شمالی کوریا میں معلومات کی رازداری کے باعث ان کی عوامی سطح پر مختصر غیر موجودگی بھی صحت اور ممکنہ جانشین سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیتی ہے۔
غیر ملکی حکومتیں اور انٹیلی جنس ادارے بھی کم جونگ اُن کی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں، کیونکہ شمالی کوریا کی قیادت میں کسی بھی تبدیلی کے علاقائی سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔




