بنگلا دیش نے جوہری توانائی کے شعبے میں تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش کے پہلے جوہری ری ایکٹر نے کامیابی سے ابتدائی جوہری عمل شروع کر دیا، اس پیش رفت کے بعد بنگلا دیش جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہونے کے مزید قریب پہنچ گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روسی تعاون سے تعمیر کیے جانے والے روپ پور جوہری بجلی گھر کے پہلے ری ایکٹر نے 11 اکتوبر 2026ء کو ابتدائی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت بنگلا دیش کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ملک کی بجلی کی ضروریات بڑی حد تک قدرتی گیس اور دیگر ذرائع سے پوری ہوتی ہیں، اب جوہری توانائی کی شمولیت سے توانائی کے شعبے میں ایندھن کی درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روپ پور جوہری بجلی گھر دارالحکومت ڈھاکا سے تقریباً 150 کلو میٹر مغرب میں واقع ہے، اس منصوبے میں دو ری ایکٹر شامل ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 2 ہزار 160 میگاواٹ بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ روسی جوہری ٹیکنالوجی کمپنی روساٹوم کی معاونت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
یہاں یہ بات واضح کرنا بھی اہم ہے کہ ری ایکٹر میں جوہری عمل شروع ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بجلی کی باقاعدہ پیداوار بھی شروع ہو گئی ہے، بجلی کو قومی گرڈ سے منسلک کرنے سے پہلے مزید تکنیکی جائزہ، حفاظتی تصدیق اور مرحلہ وار آزمائشیں مکمل کرنا ضروری ہیں۔
حکام کے مطابق ری ایکٹر کو نومبر کے آخر تک قومی بجلی گرڈ سے منسلک کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، تاہم اس کے لیے تمام ضروری مراحل کی کامیاب تکمیل لازمی ہو گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روپ پور منصوبہ بنگلا دیش کے بڑے اور مہنگے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شامل ہے، جس کی لاگت تقریباً 12.8 ارب ڈالرز بتائی گئی ہے اور روس اس منصوبے کے لیے تقریباً 11.9 ارب ڈالرز کے ریاستی قرضے فراہم کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کے دونوں ری ایکٹر مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد بنگلا دیش کی بجلی کی ضروریات کا 10 فیصد سے زیادہ حصہ پورا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، اس سے ملک کو توانائی کی مسلسل فراہمی بہتر بنانے اور ایندھن جلانے سے پیدا ہونے والے براہِ راست کاربن اخراج میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکے گی۔




