ملتان میں ظلم اور بربریت کا واقعہ پیش آیا ہے، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کار سوار نے 15 سال کے لڑکے کو کچل کر قتل کردیا۔ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔
ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو کار تلے کچل کر قتل کرنے کی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز میں لڑکے کا تعاقب کرنے اور اس پر گاڑی چڑھانے کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مقتول پر چوری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
سی پی او ملتان اختر فاروق کے مطابق مقتول لڑکا ایک این جی او کے یتیم خانے میں مقیم تھا، جہاں سے اسے سات روز قبل الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔
ملزم مختلف عمارتوں میں بجلی کے کام کے ٹھیکے لیتا تھا اور ماضی میں بھی یتیم خانے کے بچے اس کے پاس تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق لڑکے کے کام چھوڑ کر جانے پر اس کا تعاقب کیا گیا اور گاڑی چڑھا دی گئی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ مقتول کی لاش اس کے چچا اور ماموں مظفرگڑھ لے گئے ہیں۔
مظفر گڑھ کے رہائشی لڑکے وسیم کی نماز جنازہ رات کو موضع دولت پور میں ادا کرکے آبائی قبرستان میں تدفین کردی گئی۔
نماز جنازہ میں صرف قریبی رشتہ داروں اور یتیم خانہ کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ مقتول لڑکے کی لاش چچا اور ماموں مظفرگڑھ لے گئے تھے۔
وسیم کے نانا غم سے نڈھال ہیں، انہوں نے کہا کہ بہت شریف بچہ تھا۔
وسیم کے چچا نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ وسیم کی والدہ، ایک چھوٹا بھائی اور ایک چھوٹی بہن ہے۔ وہ تقریباً ساڑھے 5 سال سے یتیم خانے میں رہائش پزیر تھا۔
لواحقین نے حکومت سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ملتان میں 15 سال کے لڑکے وسیم کو بااثر ملزمان نے گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کردیا تھا۔
ملزمان نے قتل کو حادثہ ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم مختلف زاویوں سے سامنے آنے والی ایک سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ویڈیوز نے ثابت کیا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ظالمانہ انداز کا قتل تھا۔




