معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں قید اپنے بانی عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی کوششیں دوبارہ تیز کر دی ہیں۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے حکام سے رابطہ کرکے عمران خان کی 3؍ بہنوں کی رہائی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کی بحالی کی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب، پارٹی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا قیادت کے تصادم پر مبنی طرزِ عمل کے باعث سابق وزیراعظم اور ان کے اہلِ خانہ پر عائد پابندیوں میں نرمی حاصل کرنے کا ایک اہم موقع ضائع ہو گیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومتی حکام سے رابطہ کرکے عمران خان کی 3؍ بہنوں کی رہائی کی درخواست کی ہے، جن کی 30؍ روزہ نظر بندی کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کی بحالی کی درخواست بھی کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پارٹی بشریٰ بی بی کی اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کی بحالی چاہتی ہے، جن میں منگل کو ہونے والی ملاقات بھی شامل ہے۔ یہ کوششیں احتجاجی مارچ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے بعد عمران خان کے اہلِ خانہ تک رسائی کو معمول پر لانے کیلئے کی جا رہی ہیں۔
تبصرے کیلئے رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر نے اس معاملے پر بات سے گریز کیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کر سکتے۔ دریں اثنا، پی ٹی آئی ذرائع نے تسلیم کیا کہ پارٹی حالیہ دنوں میں حکومت کے ساتھ رابطوں کے دوران عمران خان، ان کی بہنوں اور بشریٰ بی بی کے لیے ریلیف حاصل کرنے کا ایک اہم موقع گنوا بیٹھی۔
ان کے مطابق، اس دھچکے کی ایک وجہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا قیادت کا جارحانہ طرزِ عمل تھا۔
ان ذرائع کے مطابق، صوبائی قیادت آخری وقت تک اس یقین میں رہی کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی نافذ کرے گی اور نہ ہی گورنر راج کے ذریعے صوبے کا انتظام سنبھالے گی۔
پارٹی کے بعض رہنمائوں کا خیال تھا کہ ایسا کوئی بھی اقدام پی ٹی آئی کے صوبائی مضبوط گڑھ میں بڑے پیمانے پر عوامی ردِعمل کو جنم دے گا، جس سے حکام اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
تاہم، حکومت اور متعلقہ حکام سے رابطے میں رہنے والے دیگر افراد تنبیہ کرتے رہے تھے کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ حتمی ہے اور وفاقی حکومت اس وقت تک کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں ہوگی جب تک مجوزہ مارچ اور بگڑتی سکیورٹی صورتحال سے متعلق تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔
ذرائع نے بتایا کہ صوبائی قیادت نے حکام کے عزم کو کم سمجھا، جبکہ وفاقی مداخلت کے جواب میں عوامی حمایت متحرک کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر دیکھا۔ 11؍ اکتوبر کو ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد سامنے آنے والے ردِعمل سے بظاہر ان خدشات کو تقویت ملی۔
حال ہی میں دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، صوبے بھر میں احتجاجی سرگرمیوں کے 16؍ واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں شرکاء کی اوسط تعداد 100؍ سے کم تھی۔ صرف ایک اجتماع، جو 13؍ اکتوبر کو باڑہ میں ہوا، میں شرکاء کی تعداد 500؍ سے زیادہ رہی، تاہم پولیس کارروائی کے بعد یہ اجتماع منتشر ہوگیا۔
پی ٹی آئی کے زیرِ اقتدار صوبائی حکومت کو ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد معطل کر دیا گیا، جبکہ سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا۔
پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کی مداخلت بالخصوص دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس کے جواز پر بھی اعتراض کیا ہے۔
پارٹی کا موقف ہے کہ یہ اقدام سیاسی محرکات کے تحت کیا گیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، پہلے کی محاذ آرائی ختم ہونے کے باوجود عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہو سکتی ہیں۔ تاہم، یہ کوششیں کسی رعایت کے حصول میں کامیاب ہوں گی یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق آئین میں ایسی بے شمار گنجائش ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی حکومت ہوتے ہوئے ہم ایسا کام نہیں کرنا چاہتے، ہم گورنر راج بھی نہیں لگانا چاہتے تھے۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ 14 سال میں تحریک انصاف نے دہشت گردی کو کوئی مسئلہ سمجھا ہی نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اڈیالہ کبھی بنی گالہ یا مراد سعید کے ہاتھوں میں پوری حکومت دیں گے تو پھر ایسے ہی نتائج آئیں گے۔




