مکہ پر مزید حملے ریڈ لائن، دفاعی اتحاد علاقائی امن کا ضامن، حرمین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں، وزیراعظم

وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے مکہ دفاعی اتحاد کو علاقائی امن کا ضامن قراردیتے ہوئے کہاہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں ‘ مکہ مکرمہ پر مزید حملے اسلام آباد کے لیے ریڈ لائن ہوں گے‘عالمی معیشت کیلئے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے‘ پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میزپر بٹھایا‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک تاریخی پیشرفت ہے ‘بھارت جھوٹا بیانیہ بناکر پاکستان پر حملہ آورہوامگرپاکستان کی مسلح افواج نے اسے تاریخی سبق سکھایا‘انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا‘اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں‘پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا‘ پاکستان کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کا حل یقینی بنائے ‘دہشتگردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے‘افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے بند ہونے چاہئیں‘ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شہباز شریف نے امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اور فیلڈمارشل عاصم منیر کی تعریف جبکہ فلسطین ‘لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کی شب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہناتھاکہ مقدس شہر مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ مکہ مکرمہ کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ایسی ریڈ لائن ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ کوئی مسلمان ایسے گھناؤنے فعل کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔دہشتگردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے‘فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغان سرزمین استعمال کررہے ہیں‘ افغان حکام اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔شہباز شریف نے معرکہ حق کے حوالے سے کہاہے کہ بھارت نے جھوٹا بیانیہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی‘صدر ٹرمپ کی وژنری قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں‘پاکستان‘ترکیہ اور سعوی عرب کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیںبلکہ خطے میں امن کیلئے ہے‘کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا‘ہے اور رہے گا‘بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا‘اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں‘آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو‘ انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطی کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا، جنگ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا‘اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا‘اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر تاریخی پیشرفت کی گئی‘میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے۔ پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں