لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے توہینِ عدالت کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایف آئی آر تو عینک لگا کر بھی نہیں پڑھی جا رہی، کم از کم ایک فونٹ رکھیں۔
چوہنگ پولیس اہلکاروں کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ میں ہوئی، عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے کہا ہے کہ فونٹ کے حوالے سے پنجاب آئی ٹی بورڈ (پی آئی ٹی بی) سے معاونت حاصل کی ہے۔
جسٹس عالیہ نیلم 142 سالوں میں لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس
جس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ کہتے ہیں ہم پیپر بچا رہے ہیں، پیپر بچاتے بچاتے ہماری آنکھیں ضائع ہو گئیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی کو پنجاب میں ایک طرز کے فونٹ کی ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت کرتے ہوئے 29 ستمبر کو عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔








